*غ ز ل*
اول خود کو پرکھا جائے
بعد کسی پر بولا جائے
سرد اگر ماحول بہت ہے
کیوں نہ سورج اوڑھا جائے
عینک والے دو نینوں میں
سارا منظر دھندلا جائے
دل پہلو سے وقت کی مانند
ریت نما سا پھسلا جائے
نظم نہیں ہے جس محفل میں
اس محفل سے اٹھّا جائے
انعام ہوا ہے جن راہوں پر
اُن راہوں سے گزرا جائے
دو اک لیمو رخ سے اتارو
جان کا راہی صدقہ جائے
...ڈاکٹر یاسین راہی
*غ ز ل*
Reviewed by WafaSoft
on
August 12, 2018
Rating:
No comments: