Dr Yaseen rahi trasgar

جواں سال شاعر

Monday, May 13, 2019

🌹 *ریاضی دان کا اظہارِ محبت* 🌹


🌹 *ریاضی دان کا اظہارِ محبت* 🌹

کل میں تمہارا مستطیل نما مکان جو مثلثی گلی میں واقع ہے, کے قریب سے گزر رہا تھا کہ اچانک میری نظر تمہارے نہایت ہی خوبصورت دائرہ نما چہرے , مخروطی ناک اور کروی آنکھوں پر پڑی

سچ مانو تمہیں دیکھنے سے قبل میرا دل ایک خالی سیٹ کی مانند تھا لیکن ایک مخصوص مقدار کا وکٹر تمہاری آنکھوں سے تھیٹا ریڈینس کے ساتھ انحراف پاتے ہوئے میرے دائرہء دل پر خطِ مماس کی طرح ثبت ہوا تو میرا دل عشق و محبت کا ایکل سیٹ بن کے رہ گیا

میری محبت کے اس دودرجی مساوات کو , جسکے دو حقیقی جذور ہیں , مجھ سے ایک بہتر ثنائی تعلق پیدا کرتے ہوئے صرف اور صرف تمہی حل کرسکتی ہو
لہٰذا میری تم سے درخواست ہے کہ تم میری محبت کے دعوئ عام کو فیثا غورثی مسلہء اثباتی کے ثبوت کی طرح قبول کرتے ہوئے میری زندگی کے ترسیمی کاغذ پر اپنی مماثلت اور مشابہت کی لکیریں کھینچیں تاکہ میری حیات کا کھوکلا استوانہ ایک ٹھوس کرہ کی شکل اختیار کرتا ہوا نظر آئے اور ہم اپنے ثنائی عمل سے عشق و محبت , پیار , ایثا و قربانی کا لامحدود سیٹ بن کر اپنی زندگی کے دکھوں کی تقسیم اور سکھوں کی ضرب کرنے والے بنیں
تمہیں اگر میرا پرستاو قبول ہے تو آو ہم خطی جوڑی کے زاوئیے بن جائیں ورنہ پھر متقابلہ زاویوں کی جوڑی بنے رہنے میں ہی بہتری ہے

....ڈاکٹر یاسین راہی

Friday, September 28, 2018

غزل

🌹🌹   *غزل*   🌹🌹

منافع ہو اگر سودے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
خسارا ہے تو پھر ہاتھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

جو ٹیڑھی میڑھی ڈگر ہے محبتوں والی
چلو کہ اس پہ ذرا ہم بھی  چل کے دیکھتے ہیں 

وہ کس جتن سے بھری محفلوں میں یار ہمیں
نگاہ کے زاوئیے اپنے بدل کے دیکھتے ہیں 

سفر میں کتنے نشیب و فراز زندہ  ہیں
تمہارے ساتھ میں ہم بھی نکل کے دیکھتے ہیں

سنا ہے پاوں کا ہر  درد اسی سے جائے گا
اگر ہے سچ  تو چلو پھر ٹہل کے دیکھتے ہیں 

عجیب لوگ ہیں راہی پسِ دیوار کا منظر
بڑےہی چاو سے اکثر اچھل کے دیکھتے ہیں

...ڈاکٹر یاسین راہی

غزل

🌹   *غزل*   🌹

کوئی پتھر نہ سیم و گہر چاہئے
اُنسیت کی دلوں پر مہر چاہئے

موت کا گر سفر تم کو درپیش ہے
اس سفر کو اک عزمِ سفر چاہئے

دنیاوالوں کو ہم نے پڑھا ہے مگر
کچھ تو اپنی بھی خود کو خبر چاہئے

سب نگاہوں سے بچتے بچاتے ہوئے
عیب کرنے کا ہم میں ہنر چاہئے

دل میں سورج تغیر کا کل اُگ سکے
آج لہجہ میں ایسا اثر چاہئے

گلستانوں کی بربادیوں کے لئے
ایک اُلّو  تو اب شاخ پر چاہئے

چہرہء درد راہی جنہیں دِکھ سکے
کوئی  ہم میں وہ اہلِ نظر چاہئے

۔۔۔۔ڈاکٹر یاسین راہی

Wednesday, August 29, 2018

منافع ہو اگر سودے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں خسارا ہے تو پھر ہاتھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

   *غزل*   
منافع ہو اگر سودے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں 
خسارا ہے تو پھر ہاتھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

جو ٹیڑھی میڑھی ڈگر ہے محبتوں والی 
چلو کہ اس پہ ذرا ہم بھی  چل کے دیکھتے ہیں 

وہ کس جتن سے بھری محفلوں میں یار ہمیں 
نگاہ کے زاوئیے اپنے بدل کے دیکھتے ہیں 

سفر میں کتنے نشیب و فراز زندہ  ہیں 
تمہارے ساتھ میں ہم بھی نکل کے دیکھتے ہیں

سنا ہے پاوں کا ہر  درد اسی سے جائے گا 
اگر ہے سچ  تو چلو پھر ٹہل کے دیکھتے ہیں 

عجیب لوگ ہیں راہی پسِ دیوار کا منظر 
بڑےہی چاو سے اکثر اچھل کے دیکھتے ہیں

...ڈاکٹر یاسین راہی

Sunday, August 26, 2018

غزل

🌹🌹   *غزل*   🌹🌹

منافع ہو اگر سودے میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
خسارا ہے تو پھر ہاتھوں کو مل کے دیکھتے ہیں

جو ٹیڑھی میڑھی ڈگر ہے محبتوں والی
چلو کہ اس پہ ذرا ہم بھی  چل کے دیکھتے ہیں 

وہ کس جتن سے بھری محفلوں میں یار ہمیں
نگاہ کے زاوئیے اپنے بدل کے دیکھتے ہیں 

سفر میں کتنے نشیب و فراز زندہ  ہیں
تمہارے ساتھ میں ہم بھی نکل کے دیکھتے ہیں

سنا ہے پاوں کا ہر  درد اسی سے جائے گا
اگر ہے سچ  تو چلو پھر ٹہل کے دیکھتے ہیں 

عجیب لوگ ہیں راہی پسِ دیوار کا منظر
بڑےہی چاو سے اکثر اچھل کے دیکھتے ہیں

...ڈاکٹر یاسین راہی

Thursday, August 23, 2018

*پشاور کے معصوم شہید طلبہ کے نام*

*پشاور کے معصوم شہید طلبہ کے نام*

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

تیار مجھکو کرنے کرانے سے بچوگی
لقمہ بنابنا کے کھلانے سے بچوگی
رکشے تلک اب آکے بٹھانے سے بچوگی
رخصت کو مری ہاتھ ہلانے سے بچوگی

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

جو کچھ کیا ہے یاد سنا بھی نہ پاونگا
صورت میں اپنی سرکودکھا بھی نہ پاونگا
اپنا ٹفن میں کھول کے کھا بھی نہ پاونگا
رفقاء کو اپنے یار ستا بھی نہ پاونگا

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

سر اور ٹیچروں سے ملاقات آخری
اُنکی عنایتوں کی یہ سوغات آخری
ڈانٹ اور ڈپٹ کی مجھ پہ یہ برسات آخری
دن آخری ہے آج کا ,  ہے  رات آخری

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

بھیا سے کہنا تنگ اسے کر نہ سکونگا
باجی کے ساتھ پھر سے کبھی لڑ نہ سکونگا
آپی پہ اپنا بوجھ کبھی دھر نہ سکونگا
خدمت کبھی میں ابّو کی اب کر نہ سکونگا

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

دل چاہتا ہے پھر یہاں خونِ وفا نہ ہو
اسکول مدرسوں میں کبھی حادثہ نہ ہو
دہشت گری کا راہی کوئی سلسلہ نہ ہو
بچوں کے ساتھ ایسا کوئی سانحہ نہ ہو

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

*ڈاکٹر یاسین راہی بلگام*

ا

بچپنا تجھ میں اگر ہے تو شرارت کرلے

🌹   *غزل*   🌹

بچپنا تجھ میں اگر ہے تو شرارت کرلے
ورنہ لازم ہے بزرگوں کی اطاعت کرلے

اپنے کردار کا افسانہ حقیقت کرلے
آ , کہ ہر لہجہء گفتار صداقت کرلے

ساعتیں یوں تو ہوا کرتی ہیں لاکھوں دن میں
ایک ساعت تو مرے واسطے زحمت کرلے

مجھ سے دیکھی نہیں جائنگی تری نم آنکھیں
مسکراتے ہوئے آکر مجھے رخصت کرلے

تیرے اپنوں میں پرائے بھی چھپے ہوتے ہیں
اسکے ادراک کے چلتے کوئی حکمت کرلے

قول اور فعل میں ہم رنگیاں راہی ہوں ترے
کم سے کم اسکی میاں تُو ہی جسارت کرلے

...ڈاکٹر یاسین راہی

Pages