جواں سال شاعر

Thursday, August 23, 2018

*پشاور کے معصوم شہید طلبہ کے نام*

*پشاور کے معصوم شہید طلبہ کے نام*

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

تیار مجھکو کرنے کرانے سے بچوگی
لقمہ بنابنا کے کھلانے سے بچوگی
رکشے تلک اب آکے بٹھانے سے بچوگی
رخصت کو مری ہاتھ ہلانے سے بچوگی

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

جو کچھ کیا ہے یاد سنا بھی نہ پاونگا
صورت میں اپنی سرکودکھا بھی نہ پاونگا
اپنا ٹفن میں کھول کے کھا بھی نہ پاونگا
رفقاء کو اپنے یار ستا بھی نہ پاونگا

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

سر اور ٹیچروں سے ملاقات آخری
اُنکی عنایتوں کی یہ سوغات آخری
ڈانٹ اور ڈپٹ کی مجھ پہ یہ برسات آخری
دن آخری ہے آج کا ,  ہے  رات آخری

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

بھیا سے کہنا تنگ اسے کر نہ سکونگا
باجی کے ساتھ پھر سے کبھی لڑ نہ سکونگا
آپی پہ اپنا بوجھ کبھی دھر نہ سکونگا
خدمت کبھی میں ابّو کی اب کر نہ سکونگا

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

دل چاہتا ہے پھر یہاں خونِ وفا نہ ہو
اسکول مدرسوں میں کبھی حادثہ نہ ہو
دہشت گری کا راہی کوئی سلسلہ نہ ہو
بچوں کے ساتھ ایسا کوئی سانحہ نہ ہو

اسکول جارہا ہوں میں امی سنیں ذرا
غائب رہونگا آپکی نظروں سے میں سدا

*ڈاکٹر یاسین راہی بلگام*

ا

No comments:

Post a Comment

Pages